گروگرام،19؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ایک طرف ہندو تنظیمیں گڑگاؤں میں عوامی مقامات پر نماز جمعہ کی ادائیگی کی مسلسل مخالفت کر رہی ہیں تو دوسری جانب سکھوں نے مسلمانوں کیلئے گردواروں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ہندو تنظیموں کے رہنماؤں کو ان 37 مقامات کو لے کر بھی اعتراض ہے، جن کا انتخاب مسلم برادری، ہندو کمیونٹی اور انتظامیہ کے افسروں کے درمیان طویل بات چیت کے بعد نماز پڑھنے کیلئے کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلم برادری کے لوگ ان مقامات پر نماز ادا کرتے آرہے تھے۔لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے ایک بار پھر ہندو تنظیموں کے لوگوں نے سیکٹر 12-A / اور سیکٹر 47 میں نماز پڑھنے والے لوگوں کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ کئی آر ڈبلیو اے بھی ان لوگوں کی حمایت میں آگئے اور انتظامیہ نے 37 میں سے 8 جگہوں پر دی گئی اجازت واپس لے لی۔لیکن گڑگاؤں میں پانچ گردواروں کی ایک کمیٹی نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ان کے مذہبی مقامات پر آکر نماز ادا کرسکتے ہیں۔ یہ گرودوارے صدر بازار، سیکٹر 39، سیکٹر 46، ماڈل ٹاؤن اور جیکب پورہ میں واقع ہیں۔گڑگاؤں کی سبزی منڈی میں واقع گرودوارہ سنگھ سبھا کے صدر شیردل سنگھ سدھو نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایاکہ تمام مذاہب کے لوگ اپنی عبادت کیلئے گردوارہ آسکتے ہیں۔ اگر مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو دی گئی جگہوں پر نماز پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہے تو وہ گرودواروں میں آکر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کیلئے حکومت سے کسی قسم کی اجازت درکار ہے تو وہ بھی لی جائے گی۔مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے سکھ برادری کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ گڑگاؤں میں جمعیۃ علما کے صدر مفتی محمد سلیم نے اسے ایک فراخدلی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جمعہ کو سیکٹر 39 /اور صدر بازار کے گردواروں میں نماز ادا کی جائے گی۔ اس سے قبل گڑگاؤں کے سیکٹر 12 میں رہنے والے اکشے یادو نامی نوجوان نے اپنا خالی مکان نماز پڑھنے کیلئے دیا تھا اور گزشتہ جمعہ کو یہاں 15 لوگوں نے نماز ادا کی تھی۔گڑگاؤں ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نماز کیلئے جگہ کے انتخاب کا فیصلہ مقامی لوگوں سے بات چیت کی بنیاد پر کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہاں کسی قسم کا احتجاج نہ ہو۔گڑگاؤں میں ہندو تنظیموں کے رہنما گزشتہ کئی ہفتوں سے عوامی مقامات پر نماز ادا کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ان کے رہنماؤں کی بیان بازی نے علاقے کا ماحول خراب کر دیا ہے۔